تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 5 اور 6 اگست 2025 کو پورے پاکستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ یہ احتجاج حکومتی پالیسیوں، مہنگائی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر منعقد کیے گئے۔ تمام بڑے شہروں میں ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی اور یہ احتجاج اب بھی جاری ہے۔

اہم خبر

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے 6 اگست کی رات گجرات میں احتجاجی خطاب کیا جس میں انہوں نے احتجاج کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

لاہور میں احتجاج

5 اگست کو لاہور کے مال روڈ پر پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد احتجاجیوں نے دھرنا دے دیا۔

لاہور احتجاج کی کلیدی باتیں:

  • پولیس نے ٹئیر گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا
  • 50 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا
  • احتجاجیوں نے رات بھر دھرنا جاری رکھا

کراچی میں ریلی

کراچی کے فرئیر ہال کے باہر 6 اگست کو پی ٹی آئی کی بڑی ریلی نکالی گئی جس میں شہر بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

تقریریں

پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے اور مہنگائی بڑھانے کا الزام لگایا۔

اسلام آباد میں دھرنا

دارالحکومت اسلام آباد میں 5 اگست سے جاری دھرنا اب تک جاری ہے۔ احتجاجی ڈی چوک پر خیمہ زن ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت استعفیٰ دے۔

پشاور میں مظاہرہ

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 6 اگست کو بڑا مظاہرہ ہوا جس میں صوبائی اسمبلی کے اراکین بھی شریک ہوئے۔

دیگر شہروں میں احتجاج

ملتان

چوک کمالیہ پر ہزاروں افراد کا احتجاج، ٹریفک معطل

کوئٹہ

میں سردار خان روڈ پر ریلی نکالی گئی

گجرات

عمران خان کا خطاب، مزید احتجاج کا اعلان

پی ٹی آئی کے مطالبات

  • فوری انتخابات: نئے الیکشن کا مطالبہ
  • مہنگائی کنٹرول: بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی
  • سیاسی قیدیوں کی رہائی: پی ٹی آئی کارکنوں کی فوری رہائی
  • عدالتی خودمختاری: عدلیہ پر دباؤ ختم کرنے کا مطالبہ
  • میڈیا کی آزادی: میڈیا پر پابندیوں کا خاتمہ

واقعات کی زمانی ترتیب

5 اگست صبح 10 بجے

لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں احتجاج کا آغاز

5 اگست دوپہر 2 بجے

پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپیں، ٹئیر گیس کا استعمال

5 اگست شام 6 بجے

عمران خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے احتجاجیوں سے خطاب کیا

6 اگست صبح 9 بجے

تمام بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا دوبارہ آغاز

6 اگست رات 8 بجے

گجرات میں عمران خان کا عوامی اجتماع سے خطاب

حکومتی ردعمل

وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو "قانون شکنی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت گفت و شنید کے لیے تیار ہے لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم ہاؤس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "تمام سیاسی جماعتوں کو آئینی راستہ اختیار کرنا چاہیے"۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس (6 اگست رات)

  • لاہور میں دھرنا جاری، پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان مذاکرات
  • کراچی میں ریلی ختم، کارکنوں نے گھر واپس جانا شروع کر دیا
  • اسلام آباد میں دھرنے میں مزید کارکنوں کی آمد
  • پی ٹی آئی نے 7 اگست کو یوم احتجاج کا اعلان کیا ہے

عمومی سوالات

پی ٹی آئی کے مطابق یہ احتجاج مہنگائی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور فوری انتخابات کے مطالبے پر منعقد کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ہزاروں جبکہ پی ٹی آئی کے دعوے کے مطابق لاکھوں افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔

لاہور اور اسلام آباد میں پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں ٹئیر گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال ہوا۔

پی ٹی آئی نے 7 اگست تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ صورتحال پر منحصر ہے۔